زکوٰۃ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ یہ اس مسلمان پر فرض ہے جس کے پاس مقررہ مقدار میں مال ہو اور اس پر ایک قمری سال گزر جائے۔ زکوٰۃ صرف مالی عبادت ہی نہیں بلکہ معاشرے میں کمزور طبقے کی مدد اور مال کو پاک کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ بہت سے لوگ نیک نیتی کے باوجود یہ نہیں جانتے کہ زکوٰۃ کب فرض ہوتی ہے، کس مال پر آتی ہے اور کسے دی جا سکتی ہے۔ اس مضمون میں عام طور پر بیان کی جانے والی باتیں سادہ انداز میں لکھی گئی ہیں۔
فقہ حنفی کے مطابق زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے چند شرائط ہیں:
پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی مسلمان، عاقل اور بالغ ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ مال کا مالک ہو۔ تیسری شرط یہ ہے کہ یہ مال اس کی بنیادی ضرورتوں سے زائد ہو۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ مال پر ایک قمری سال گزر چکا ہو۔ اور پانچویں یہ کہ قرض نکالنے کے بعد بھی مال نصاب کے برابر بچے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کے پاس دس لاکھ روپے ہیں مگر اس پر آٹھ لاکھ کا فوری قرض واجب الادا ہے تو باقی رقم دیکھی جائے گی کہ وہ نصاب کو پہنچتی ہے یا نہیں۔
نصاب ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر نقد رقم یا مال ہے۔ گرام میں یہ تقریباً 87.48 گرام سونا اور 612.36 گرام چاندی بنتی ہے۔ آج کل کئی علماء چاندی کے نصاب کو معیار بناتے ہیں، کیونکہ اس میں زیادہ لوگوں پر زکوٰۃ آتی ہے اور مستحقین کا فائدہ ہوتا ہے۔ اپنے لیے کون سا معیار درست ہے، یہ کسی عالمِ دین سے پوچھ لیں۔
اگر کسی کے پاس سونا، چاندی، نقدی اور تجارتی مال الگ الگ ہوں تو عام طور پر سب کی قیمت جمع کر کے چاندی کے نصاب سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ تفصیل چاہتا ہے، اس لیے ہماری پوسٹ سونے، چاندی اور نقد رقم پر زکوٰۃ کا حساب بھی ساتھ پڑھ لیں۔
زکوٰۃ کا حساب قمری یعنی ہجری سال سے ہوتا ہے، شمسی سال سے نہیں۔ ہجری سال عیسوی سال سے تقریباً دس گیارہ دن چھوٹا ہوتا ہے۔ اسی لیے عیسوی تاریخ کے حساب سے زکوٰۃ کی تاریخ ہر سال کچھ دن پہلے آ جاتی ہے۔ بہت سے لوگ اپنے لیے کوئی ایک مقررہ تاریخ رکھ لیتے ہیں، جیسے رمضان کی پہلی تاریخ، اور اسی دن اپنے مال کا حساب کر لیتے ہیں۔ یہ طریقہ آسان ہے، بشرطیکہ اس دن آپ نصاب کے مالک ہوں۔ ہجری اور عیسوی تاریخ کا فرق سمجھنے کے لیے ہجری اور عیسوی کیلنڈر میں فرق پڑھیں، اور تاریخ بدلنے کے لیے ہجری تاریخ کنورٹر استعمال کریں۔
نقد رقم، بینک بیلنس، سونا، چاندی، تجارتی مال اور وہ رقم جو دوسروں سے ملنی ہو (اگر ملنے کی امید ہو)، ان سب پر زکوٰۃ ہوتی ہے۔ حنفی مسلک میں سونے چاندی کے زیورات پر بھی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، چاہے وہ پہننے کے لیے ہوں۔ تجارت کے لیے خریدی گئی اشیا، جیسے دکان کا سامان یا فروخت کے لیے رکھا ہوا پلاٹ، ان کی موجودہ بازاری قیمت پر زکوٰۃ نکلتی ہے۔
دوسری طرف رہنے کا گھر، ذاتی استعمال کی گاڑی، گھر کا فرنیچر، برتن اور روزمرہ کے کپڑوں پر زکوٰۃ نہیں ہوتی۔ اسی طرح پیشے کے اوزار اور مشینیں، جن سے آپ کام کرتے ہیں مگر بیچنے کے لیے نہیں رکھتے، ان کی اپنی ذات پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی پلاٹ یا گاڑی خریدتے وقت ہی بیچنے کی نیت سے لی گئی ہو تو وہ تجارتی مال میں شمار ہو گی۔ نیت کا یہ فرق بہت اہم ہے۔
شرح ڈھائی فیصد ہے، یعنی ہر سو روپے پر ڈھائی روپے، یا چالیسواں حصہ۔ اگر آپ کے قابلِ زکوٰۃ مال کی کل مالیت آٹھ لاکھ روپے ہے تو زکوٰۃ 20,000 روپے بنے گی (800000 کو 0.025 سے ضرب دینے پر)۔ یہ مثال محض سمجھانے کے لیے ہے۔
قرآنِ مجید کی سورۃ التوبہ میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان ہوئے ہیں: فقیر، مسکین، زکوٰۃ کے کام پر مقرر عاملین، تالیفِ قلب، گردنیں آزاد کرانا، مقروض، اللہ کی راہ میں، اور مسافر۔ آج کل عام طور پر فقیر، مسکین اور مقروض کو زکوٰۃ دی جاتی ہے۔
اپنے والدین، دادا دادی، نانا نانی، اولاد اور میاں بیوی کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔ بہتر یہ ہے کہ ضرورت مند رشتہ داروں کو ترجیح دیں، بشرطیکہ وہ ان دائروں میں نہ آتے ہوں۔ بہن بھائیوں، بھتیجوں اور خالہ پھوپھی کو دینا جائز ہے اور اس میں دہرا اجر بیان کیا جاتا ہے، ایک زکوٰۃ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ حنفی فقہ میں غیر مسلم کو زکوٰۃ نہیں دی جاتی اور سید (بنو ہاشم) کو بھی زکوٰۃ دینے سے منع کیا گیا ہے۔
زکوٰۃ دیتے وقت نیت کا ہونا ضروری ہے، اور مستحق کو رقم یا چیز کا مالک بنانا لازم ہے۔ اس لیے مسجد یا مدرسے کی عمارت، سڑک یا کنویں جیسے کاموں میں زکوٰۃ کی رقم براہِ راست لگانا عام طور پر درست نہیں سمجھا جاتا۔ ضرورت مند طالب علم کو وظیفہ دینے یا مستحق فرد کو مالک بنانے کی صورت الگ ہے۔ کسی ادارے کو دینے سے پہلے پوچھ لیں کہ وہ رقم کن مصارف میں خرچ کرتا ہے۔
زکوٰۃ کو ایک سال گزرنے پر بلاوجہ مؤخر نہ کریں۔ اگر ایک ساتھ نکالنا مشکل ہو تو علماء کے مطابق پہلے سے تھوڑی تھوڑی ادا کرنا بھی جائز ہے، بشرطیکہ سال پورا ہونے پر حساب کر لیا جائے اور جو کمی رہے وہ پوری کر دی جائے۔ اور اگر کسی سال ادائیگی رہ گئی ہو تو اس کی قضا لازم ہے۔ اسی طرح صدقہ فطر زکوٰۃ سے الگ چیز ہے، جو رمضان کے آخر میں ادا کیا جاتا ہے۔
ایک غلط فہمی یہ ہے کہ زکوٰۃ صرف رمضان میں دی جا سکتی ہے۔ دراصل زکوٰۃ اس دن فرض ہوتی ہے جب سال پورا ہو، اور رمضان میں دینا صرف ثواب کی خاطر پسند کیا جاتا ہے۔ دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ صرف سونے پر زکوٰۃ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نقدی اور تجارتی مال بھی شامل ہیں۔ تیسری یہ کہ چھوٹے ماہانہ اخراجات کا حساب نہیں لگتا، حالانکہ سال کے آخر میں جو رقم بچی ہوئی ہو، اسی کا حساب ہوتا ہے۔
اپنی زکوٰۃ کا اندازہ لگانے کے لیے ہمارا زکوٰۃ کیلکولیٹر استعمال کریں۔ یہ صرف اندازہ ہے، آپ کے مخصوص مسئلے کا حتمی جواب کسی مستند عالم سے لیں۔