زکوٰۃ کے سلسلے میں سب سے زیادہ سوال اسی بارے میں آتے ہیں کہ سونے، چاندی اور نقد رقم کا نصاب کیسے نکالا جائے اور اگر کسی کے پاس یہ سب کچھ تھوڑا تھوڑا ہو تو کیا کرے۔ اس مضمون میں ہم مثالوں کے ساتھ سادہ حساب دیکھیں گے۔ یہ معلومات عمومی رہنمائی کے لیے ہیں اور فقہ حنفی کے مطابق بیان کی گئی ہیں۔ اپنی مخصوص صورتحال کے لیے کسی مستند عالم دین سے ضرور پوچھ لیں۔
فقہ حنفی کے مطابق سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ اور چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ ہے۔ ایک تولہ 11.664 گرام کا ہوتا ہے، اس لیے سونے کا نصاب تقریباً 87.48 گرام اور چاندی کا نصاب تقریباً 612.36 گرام بنتا ہے۔ گرام اور تولہ کا فرق دیکھنے کے لیے ہمارا تولہ گرام کنورٹر استعمال کریں، اور تفصیل کے لیے ایک تولہ سونا کتنے گرام کا ہوتا ہے؟ والا مضمون پڑھیں۔
نصاب پورا ہونے کے بعد اور سال گزرنے پر کل قابل زکوٰۃ مال کا ڈھائی فیصد، یعنی چالیسواں حصہ، زکوٰۃ میں دینا ہوتا ہے۔ سال سے مراد قمری یعنی ہجری سال ہے، اس لیے تاریخ کے لیے ہجری تاریخ کنورٹر سے مدد لی جا سکتی ہے۔
اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو، اور اس کے علاوہ نہ چاندی ہو نہ نقد رقم، تو سونے کا وزن ساڑھے سات تولہ یا اس سے زیادہ ہونے پر زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے۔ زکوٰۃ نکالنے کے لیے سونے کے کل وزن کی موجودہ بازاری قیمت معلوم کریں اور اس کا ڈھائی فیصد نکال لیں۔ مثال کے طور پر فرض کریں (یہ اعداد صرف مثال کے لیے فرضی ہیں) کہ کسی کے پاس دس تولہ سونا ہے اور اس کی کل قیمت 30 لاکھ روپے بنتی ہے۔ تو زکوٰۃ 30,00,000 کا 2.5 فیصد، یعنی 75,000 روپے بنے گی۔ آپ اصل قیمت اپنے شہر کے صراف سے معلوم کریں۔
نقد رقم میں گھر میں رکھی رقم، بینک اکاؤنٹ کا بیلنس اور ایزی پیسہ یا جیز کیش جیسے والٹ کی رقم شامل ہے۔ اس کا نصاب عام طور پر چاندی کے نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر لیا جاتا ہے۔ فرض کریں چاندی کی قیمت فی تولہ 5,000 روپے ہے (فرضی عدد)۔ تو نصاب 52.5 ضرب 5,000 یعنی 2,62,500 روپے ہوا۔ اگر کسی کے پاس سال پورا ہونے پر چار لاکھ روپے موجود ہوں تو وہ نصاب سے اوپر ہے اور اسے 4,00,000 کا 2.5 فیصد، یعنی 10,000 روپے زکوٰۃ دینی ہوگی۔
اکثر لوگوں کے پاس مثلاً تین تولہ سونا، کچھ زیور اور کچھ رقم ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں علماء کے مطابق سب مال کی قیمت جمع کی جاتی ہے۔ اگر یہ کل قیمت چاندی کے نصاب کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو جائے تو زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔ اس وجہ سے بہت سے لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ہم پر زکوٰۃ نہیں، دراصل نصاب میں آ چکے ہوتے ہیں۔ یہ مسئلہ ذرا باریک ہے، اس لیے اگر آپ کے پاس کئی قسم کا مال ہو تو عالم سے تصدیق کر لینا بہتر ہے۔
سونا چاندی (زیور سمیت)، نقد رقم، بینک بیلنس، اور تجارت کے لیے رکھا ہوا مال قابل زکوٰۃ سمجھا جاتا ہے۔ ذاتی استعمال کی چیزیں، جیسے رہائشی مکان، روزمرہ کی گاڑی، گھر کا سامان اور کپڑے، قابل زکوٰۃ نہیں ہوتیں۔ قرض کے بارے میں بھی احکام ہیں: جو قرض آپ کو ابھی ادا کرنا ہے وہ عام طور پر مال میں سے منہا کیا جاتا ہے، اور جو قرض دوسروں کے ذمے آپ کا ہے اس کی الگ تفصیل ہے۔
سب سے پہلے اپنے سال کی تاریخ مقرر کریں، جس دن آپ پہلی بار نصاب کے مالک بنے۔ پھر اس دن کے مال کی فہرست بنائیں: سونا، چاندی، نقد، بینک، اور تجارتی مال۔ ہر ایک کی قیمت لکھیں اور سب کو جمع کریں۔ جو قرض واجب الادا ہے وہ گھٹا دیں۔ آخر میں جو رقم بچے اس کا ڈھائی فیصد نکال لیں۔ یہ سارا حساب ہمارے زکوٰۃ کیلکولیٹر میں بھی کیا جا سکتا ہے۔
پہلی غلطی یہ ہے کہ لوگ صرف نقد رقم دیکھتے ہیں اور بیوی کے زیور کو بھول جاتے ہیں۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ ہر سال پرانی قیمت پر حساب لگا لیا جاتا ہے، جبکہ زکوٰۃ کے دن کی موجودہ قیمت لی جاتی ہے۔ تیسری یہ کہ اندازے سے رقم دے دی جاتی ہے، حالانکہ درست حساب کرنا بہتر ہے۔ اگر کبھی حساب میں کمی رہ جائے تو بعد میں اس کی تلافی کر لینی چاہیے۔
ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو نصاب کی بنیاد سمجھیں، سال پورا ہونے پر کل قابل زکوٰۃ مال کا ڈھائی فیصد نکالیں، اور جہاں کوئی الجھن ہو وہاں کسی مستند عالم سے رجوع کریں۔ زکوٰۃ کی بنیادی شرائط کے لیے زکوٰۃ کس پر فرض ہے اور نصاب کیا ہے؟ والا مضمون بھی دیکھ لیں۔