ہجری اور عیسوی کیلنڈر میں فرق کیا ہے؟

ہجری اور عیسوی کیلنڈر کی علامتی تصویر: ہلال اور کیلنڈر

ہمارے روزمرہ کام تو عیسوی (انگریزی) کیلنڈر کے مطابق چلتے ہیں، مگر روزہ، عید، حج، شب برات اور ہر اسلامی تہوار ہجری کیلنڈر سے جڑے ہیں۔ اسی لیے یہ سمجھنا مفید ہے کہ ان دونوں میں فرق کیا ہے اور ہجری تاریخیں ہر سال آگے پیچھے کیوں ہوتی نظر آتی ہیں۔

عیسوی کیلنڈر کی بنیاد سورج ہے

عیسوی کیلنڈر شمسی ہے، یعنی زمین کے سورج کے گرد ایک چکر کی بنیاد پر بنا ہے، جو تقریباً 365 دن اور کچھ گھنٹوں کا ہوتا ہے۔ اسی اضافی وقت کو سنبھالنے کے لیے ہر چار سال بعد لیپ ایئر آتا ہے، جس میں فروری کے 29 دن ہوتے ہیں اور سال 366 دن کا بنتا ہے۔ اس کیلنڈر میں مہینوں کی لمبائی مقرر ہے، اس لیے موسم ہر سال تقریباً انہی تاریخوں پر آتے ہیں۔

ہجری کیلنڈر کی بنیاد چاند ہے

ہجری کیلنڈر قمری ہے۔ اس کا ہر مہینہ چاند کے نظر آنے سے شروع ہوتا ہے اور 29 یا 30 دن کا ہوتا ہے۔ ہجری سال بارہ مہینوں پر مشتمل ہے: محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، جمادی الاول، جمادی الثانی، رجب، شعبان، رمضان، شوال، ذی القعدہ اور ذی الحجہ۔ اس کا آغاز رسول اللہ ﷺ کی مکہ سے مدینہ ہجرت سے ہوتا ہے، جو عام طور پر 622 عیسوی کے آس پاس شمار کی جاتی ہے۔ ہجری سال کا پہلا مہینہ محرم ہے۔

دونوں میں تقریباً 11 دن کا فرق کیوں؟

بارہ قمری مہینوں کا مجموعہ تقریباً 354 یا 355 دن بنتا ہے، جبکہ شمسی سال 365 یا 366 دن کا ہوتا ہے۔ اس طرح ہجری سال عیسوی سال سے تقریباً 10 سے 11 دن چھوٹا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال رمضان اور عید عیسوی کیلنڈر میں تقریباً 10 سے 11 دن پہلے آ جاتے ہیں۔ تقریباً 33 سال میں یہ تاریخیں پورے موسموں کا چکر مکمل کر لیتی ہیں، یعنی رمضان کبھی گرمی میں آتا ہے، کبھی سردی میں، اور پھر دوبارہ گرمی میں۔

عیسوی سال سے ہجری سال کا تقریباً اندازہ

اگر آپ جلدی سے تقریبی ہجری سال جاننا چاہیں تو ایک سادہ اندازہ یہ ہے: عیسوی سال میں سے 622 منفی کریں، پھر اس نتیجے میں اس کا تقریباً 3 فیصد جمع کر دیں۔ مثال کے طور پر 2026 میں سے 622 نکالیں تو 1404 بچتے ہیں۔ 1404 کا تقریباً 3 فیصد 43 کے قریب بنتا ہے، اس لیے 1404 + 43 = 1447 کے آس پاس، یعنی ہجری سال 1447 یا 1448 (مہینے کے لحاظ سے)۔ یہ صرف اندازہ ہے، درست تاریخ کے لیے ہمارا ہجری تاریخ کنورٹر استعمال کریں۔

پاکستان میں چاند دیکھنے کا نظام

پاکستان میں اسلامی مہینوں کی شروعات عام طور پر چاند کی رویت پر ہوتی ہے۔ رمضان اور عید جیسے اہم مواقع پر مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور زونل کمیٹیاں اجلاس کر کے اعلان کرتی ہیں۔ اس لیے کسی مہینے کی پہلی تاریخ، رویت کی صورت میں، کیلنڈر میں پہلے سے چھپی ہوئی تاریخ سے ایک دن آگے پیچھے ہو سکتی ہے۔

آن لائن ہجری کنورٹر میں فرق کیوں آ سکتا ہے؟

بہت سے آن لائن کنورٹر ریاضی کے فارمولوں پر چلتے ہیں، جیسے ام القریٰ کیلنڈر، جو سعودی عرب میں سرکاری استعمال کے لیے حساب سے بنایا جاتا ہے۔ یہ حساب پہلے سے ہو جاتا ہے، جبکہ پاکستان میں مہینہ اصل رویت کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس لیے کسی کنورٹر کا نتیجہ آپ کے علاقے کی اصل ہجری تاریخ سے ایک دن مختلف ہو سکتا ہے۔ روزے، عید اور دیگر مذہبی معاملات کے لیے ہمیشہ رویت ہلال کے اعلان یا اپنے مقامی علماء کی رہنمائی کو ترجیح دیں۔

ہجری تاریخ کہاں کام آتی ہے؟

ہجری تاریخ کا سب سے عام استعمال روزے اور عیدین کی تاریخوں کے تعین میں ہوتا ہے۔ حج ذی الحجہ کے مخصوص دنوں میں ہوتا ہے، اور قربانی بھی ذی الحجہ کی دسویں سے بارہویں تاریخ کے درمیان کی جاتی ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ کا نصاب پورے ایک قمری سال تک قائم رہنا ضروری سمجھا جاتا ہے، اس لیے سال کے حساب میں ہجری تاریخ کا خیال رکھنا مفید ہے۔ زکوٰۃ کی شرائط تفصیل سے جاننے کے لیے ہمارا مضمون زکوٰۃ کس پر فرض ہے اور نصاب کیا ہے؟ پڑھیں، اور عمر کے حساب کے لیے عمر کیلکولیٹر استعمال کر سکتے ہیں۔

خلاصہ

عیسوی کیلنڈر سورج کے حساب پر ہے اور ہجری کیلنڈر چاند کے حساب پر۔ ہجری سال تقریباً 11 دن چھوٹا ہونے کی وجہ سے اسلامی مہینے ہر سال عیسوی تاریخوں میں پیچھے کھسکتے ہیں۔ آن لائن کنورٹر اندازے کے لیے مفید ہیں، مگر مذہبی معاملات میں رویت ہلال کا اعلان ہی حتمی ہے۔

← تمام مضامین