پاکستان اور برصغیر میں سونا اور چاندی آج بھی تولے میں خریدے اور بیچے جاتے ہیں، جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک گرام اور اونس استعمال کرتے ہیں۔ عالمی مارکیٹ کی خبریں اونس میں آتی ہیں، سنار تولے میں بات کرتا ہے، اور زکوٰۃ کے مسائل میں بھی تولے کا ذکر ملتا ہے۔ اس لیے تینوں پیمانوں کا آپس کا تعلق جاننا ہر اس شخص کے کام آتا ہے جو زیور خریدتا، بیچتا یا اس کی زکوٰۃ کا حساب لگاتا ہے۔ اس مضمون میں ہم تولہ، ماشہ، رتی، گرام، اونس اور کیرٹ سب کو سادہ مثالوں کے ساتھ سمجھیں گے۔
ایک تولہ تقریباً 11.664 گرام کے برابر ہوتا ہے۔ ایک تولہ میں 12 ماشے ہوتے ہیں اور ایک ماشہ میں 8 رتی، یعنی ایک تولہ 96 رتی کا ہوتا ہے۔ اس حساب سے ایک ماشہ تقریباً 0.972 گرام اور ایک رتی تقریباً 0.1215 گرام بنتی ہے۔ نیچے کچھ عام مقداروں کی جدول دی گئی ہے:
| مقدار | گرام میں (تقریباً) |
|---|---|
| 1 رتی | 0.1215 گرام |
| 1 ماشہ (8 رتی) | 0.972 گرام |
| آدھا تولہ (6 ماشے) | 5.832 گرام |
| 1 تولہ (12 ماشے) | 11.664 گرام |
| 2 تولے | 23.328 گرام |
| 5 تولے | 58.32 گرام |
| 10 تولے | 116.64 گرام |
گرام سے تولہ بنانے کے لیے گرام کو 11.664 سے تقسیم کریں۔ اور تولے سے گرام بنانے کے لیے تولے کو 11.664 سے ضرب دیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی زیور کا وزن 25 گرام ہے تو 25 کو 11.664 سے تقسیم کرنے پر تقریباً 2.14 تولے بنتے ہیں، یعنی دو تولے اور تقریباً پونے دو ماشے۔ اسی طرح اگر کوئی کہے کہ انگوٹھی ڈھائی ماشے کی ہے تو 2.5 کو 0.972 سے ضرب دے کر معلوم ہو جاتا ہے کہ وزن تقریباً 2.43 گرام ہے۔
ایک آسان اصول یہ ہے کہ ایک گرام تقریباً 0.0857 تولہ ہوتا ہے، یعنی ایک تولے میں ساڑھے گیارہ گرام سے کچھ زیادہ وزن آتا ہے۔ اگر آپ کو موقع پر جلدی اندازہ لگانا ہو تو گرام کو بارہ سے تقسیم کر لیں، موٹا سا اندازہ مل جائے گا، مگر خریدوفروخت میں ہمیشہ درست حساب استعمال کریں۔
کچھ لوگ ایک تولے کو 11.66 گرام اور کچھ 11.664 گرام کہتے ہیں۔ یہ فرق صرف اعشاریے کا ہے اور بازار میں عام طور پر 11.664 گرام ہی معیار سمجھا جاتا ہے۔ پرانی کتابوں میں کبھی کبھار کچھ اور اعداد بھی ملتے ہیں، اس لیے اگر بڑی رقم کا سودا ہو تو سنار سے پوچھ لیں کہ وہ کون سا معیار استعمال کر رہا ہے اور اس کا کانٹا یا ترازو کس وزن پر ناپتا ہے۔
سونے چاندی کی عالمی قیمت ٹرائے اونس میں بتائی جاتی ہے۔ ایک ٹرائے اونس تقریباً 31.1035 گرام کا ہوتا ہے، یعنی ایک اونس میں لگ بھگ 2.67 تولے آتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ یہ ٹرائے اونس عام کھانے پینے کی چیزوں میں استعمال ہونے والے اونس سے مختلف ہے، جو تقریباً 28.35 گرام کا ہوتا ہے۔ سونے کے سلسلے میں ہمیشہ ٹرائے اونس ہی مراد ہوتا ہے۔
جب خبروں میں سنائی دے کہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت ڈالر فی اونس اتنی ہو گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ 31.1 گرام سونے کی قیمت اتنے ڈالر ہے۔ پاکستان میں تولے کی قیمت اسی عالمی قیمت، ڈالر کے ریٹ اور مقامی ڈیوٹی وغیرہ سے مل کر بنتی ہے، اس لیے مقامی ریٹ روزانہ بدلتا رہتا ہے۔
کیرٹ سونے کا خالص پن بتاتا ہے۔ 24 کیرٹ تقریباً خالص سونا ہوتا ہے، جبکہ 22 کیرٹ میں تقریباً 91.6 فیصد سونا اور باقی دیگر دھاتیں ہوتی ہیں۔ زیورات عموماً 21 یا 22 کیرٹ میں بنتے ہیں کیونکہ خالص سونا بہت نرم ہوتا ہے اور روزمرہ استعمال میں مڑ جاتا ہے۔ دیگر دھاتیں ملانے سے زیور مضبوط ہو جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک تولہ وزن کے زیور میں پورا تولہ خالص سونا نہیں ہوتا۔ تقریباً حساب یہ بنتا ہے:
| کیرٹ | خالص سونا | ایک تولہ زیور میں خالص سونا |
|---|---|---|
| 24 کیرٹ | تقریباً 99.9 فیصد | تقریباً 11.65 گرام |
| 22 کیرٹ | تقریباً 91.6 فیصد | تقریباً 10.68 گرام |
| 21 کیرٹ | تقریباً 87.5 فیصد | تقریباً 10.21 گرام |
| 18 کیرٹ | 75 فیصد | تقریباً 8.75 گرام |
ایک بات اور: جواہرات اور ہیروں کے وزن میں بھی کیرٹ کا لفظ آتا ہے، مگر وہاں اس کا مطلب وزن کی اکائی ہے (تقریباً 0.2 گرام)، سونے کے خالص پن کا پیمانہ نہیں۔ دونوں کو خلط ملط نہ کریں۔
سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ اور چاندی کا ساڑھے باون تولہ بیان کیا جاتا ہے۔ گرام میں دیکھیں تو ساڑھے سات تولہ سونا تقریباً 87.48 گرام اور ساڑھے باون تولہ چاندی تقریباً 612.36 گرام بنتی ہے۔ زکوٰۃ کے حساب کی تفصیل کے لیے ہماری پوسٹ سونے، چاندی اور نقد رقم پر زکوٰۃ کا حساب دیکھیں، اور عمومی شرائط کے لیے زکوٰۃ کس پر فرض ہے پڑھیں۔
سب سے پہلے وزن اور کیرٹ کی تصدیق کریں اور رسید پر دونوں لکھوائیں۔ اس کے بعد بنوائی (میکنگ چارجز) اور کٹوتی یا ویسٹیج کے بارے میں پہلے ہی پوچھ لیں، کیونکہ یہ اخراجات زیور کی قیمت میں شامل ہو کر بیچتے وقت واپس نہیں ملتے۔ اگر زیور میں نگ یا موتی جڑے ہوں تو ان کا وزن الگ بتانے کو کہیں، ورنہ آپ سونے کے بھاؤ پر نگ کا وزن بھی ادا کر بیٹھیں گے۔
ایک ہی زیور کو مختلف دکانوں پر تلوا کر دیکھنا بھی مفید ہے۔ اور اگر آپ سرمایہ کاری کے طور پر سونا خرید رہے ہیں تو زیور کے بجائے سادہ بسکٹ یا سکہ اکثر بہتر رہتا ہے، کیونکہ اس میں بنوائی کا خرچ نہیں ہوتا۔ بیچنے کے وقت بھی ایک سے زیادہ جگہ ریٹ پوچھیں۔
سب سے عام غلطی یہ ہے کہ تولے اور گرام کو ملا کر حساب کیا جاتا ہے، مثلاً زیور کا وزن گرام میں اور قیمت تولے کے حساب سے لگا دی جاتی ہے۔ دوسری غلطی کیرٹ کو نظرانداز کرنا ہے، حالانکہ 21 اور 24 کیرٹ کے ایک ہی وزن میں خالص سونے کی مقدار میں واضح فرق ہوتا ہے۔ تیسری غلطی زبانی سودا کرنا ہے۔ ہر چیز رسید پر لکھوائیں تاکہ بعد میں جھگڑے کی گنجائش نہ رہے۔
وزن فوراً تبدیل کرنے کے لیے ہمارا تولہ گرام کنورٹر استعمال کریں۔ یاد رہے کہ اس مضمون میں دی گئی قیمتیں اور اعداد صرف سمجھانے کے لیے ہیں، سونے کا اصل ریٹ روزانہ بدلتا ہے، اس لیے خریدنے یا بیچنے سے پہلے مستند سنار سے موجودہ بھاؤ ضرور معلوم کریں۔