پاکستان میں بجلی کے بل کئی گھروں کا سب سے بڑا ماہانہ خرچ بن چکے ہیں۔ خاص طور پر گرمیوں میں جب اے سی اور پنکھے دن رات چلتے ہیں تو بل اچانک کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ چند عادتیں بدل کر اور کچھ چیزیں ٹھیک کروا کر استعمال میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ نیچے آٹھ ایسے طریقے دیے گئے ہیں جو تقریباً ہر گھر میں آزمائے جا سکتے ہیں۔
بجلی کو یونٹوں میں ناپا جاتا ہے۔ ایک یونٹ کا مطلب ہے ایک کلو واٹ بجلی ایک گھنٹے تک استعمال کرنا۔ کسی آلے کا خرچ نکالنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اس کے واٹ کو گھنٹوں سے ضرب دیں اور ایک ہزار سے تقسیم کر دیں۔ مثال کے طور پر اگر 100 واٹ کا پنکھا روزانہ 10 گھنٹے چلے تو روزانہ ایک یونٹ اور مہینے میں تقریباً 30 یونٹ خرچ ہوں گے۔ ایک ہزار واٹ کی استری ایک گھنٹہ چلے تو ایک یونٹ لگے گا۔ یہ اعداد فرضی اور اندازاً ہیں، ہر آلے کے اصل واٹ اس کی پلیٹ یا لیبل پر لکھے ہوتے ہیں۔
اس حساب سے آپ جان سکتے ہیں کہ آپ کے گھر میں اصل خرچہ کہاں ہو رہا ہے۔ عام طور پر اے سی، گیزر، استری، فریج اور پانی کی موٹر سب سے بھاری ثابت ہوتے ہیں، جبکہ بلب اور موبائل چارجر کا حصہ بہت چھوٹا ہوتا ہے۔
پرانے بلبوں اور ٹیوب لائٹ کے مقابلے میں ایل ای ڈی بہت کم بجلی لیتے ہیں اور زیادہ چلتے ہیں۔ عام طور پر ایک پرانے بلب کی جگہ اتنی ہی روشنی دینے والا ایل ای ڈی اس کے مقابلے میں کافی کم واٹ لیتا ہے۔ اگر گھر میں دس بارہ بلب ہوں اور وہ روزانہ کئی گھنٹے جلتے ہوں تو تبدیلی سے مہینے کے آخر میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ صرف ان کمروں سے شروع کریں جہاں روشنی سب سے زیادہ دیر جلتی ہے، جیسے لاؤنج اور باورچی خانہ۔
اے سی کو بہت ٹھنڈا رکھنے کے بجائے درمیانے درجہ حرارت پر چلائیں اور پنکھے کے ساتھ استعمال کریں۔ عموماً درجہ حرارت چند ڈگری بڑھانے سے بجلی کا خرچ کم ہو جاتا ہے مگر کمرہ پھر بھی آرام دہ رہتا ہے۔ اے سی چلانے سے پہلے دروازے کھڑکیاں بند کریں اور پردے گرا دیں تاکہ دھوپ اندر نہ آئے۔ فلٹر ہر مہینے صاف کریں اور سال میں ایک بار مکینک سے سروس کروائیں، ورنہ گیس کم ہونے یا گندے فلٹر کی وجہ سے مشین کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اور بجلی زیادہ خرچ ہوتی ہے۔
فریج چوبیس گھنٹے چلتا ہے، اس لیے اس کی چھوٹی سی خرابی بھی مہینے میں بڑا فرق ڈالتی ہے۔ دروازہ بار بار نہ کھولیں، گرم کھانا ٹھنڈا کر کے رکھیں اور ربڑ کی سیل ٹھیک رکھیں۔ سیل کی جانچ کا آسان طریقہ یہ ہے کہ دروازے میں کاغذ کا ٹکڑا دبا کر بند کریں، اگر کاغذ آسانی سے کھنچ جائے تو ربڑ ڈھیلی ہے۔ فریج کو دیوار سے تھوڑا ہٹا کر رکھیں تاکہ پیچھے کی ہوا گزر سکے، اور وقتاً فوقتاً پیچھے کی جالی سے گرد صاف کریں۔ ٹھنڈک کی سیٹنگ موسم کے مطابق کم زیادہ کریں۔
چارجر، ٹی وی، سیٹ ٹاپ باکس اور دیگر آلات بند ہونے کے باوجود ساکٹ میں لگے ہوں تو تھوڑی بجلی لیتے رہتے ہیں۔ اسے اسٹینڈ بائی کھپت کہا جاتا ہے۔ ایک آلے کا خرچ معمولی ہوتا ہے، مگر جب گھر میں بہت سے آلات ہوں تو یہ مل کر کچھ نہ کچھ بن جاتا ہے۔ ایک سے زیادہ آلات کو سوئچ والی ایکسٹینشن پر لگائیں اور سونے سے پہلے ایک ہی سوئچ سے بند کر دیں۔ کمرے سے نکلتے وقت پنکھا اور لائٹ بند کرنے کی عادت بھی گھر والوں میں ڈالیں، خاص طور پر بچوں میں۔
استری اور گیزر زیادہ واٹ کے آلات ہیں۔ کپڑوں کی استری ایک ہی وقت میں کریں تاکہ بار بار گرم ہونے میں بجلی ضائع نہ ہو، اور آخری کپڑوں پر بند کر کے بچی ہوئی گرمی سے کام چلا لیں۔ گیزر ٹائمر یا ضرورت کے وقت ہی چلائیں اور پورا دن آن نہ رکھیں۔ گیزر کی ٹنکی پر موٹا کور لگانے سے گرمی دیر تک قائم رہتی ہے۔ اگر گیس دستیاب ہو تو گیس والا گیزر چلانا بجلی کے مقابلے میں کم خرچ ہو سکتا ہے، لیکن گیس کے بل کا بھی حساب رکھیں۔
نیا اے سی یا پنکھا خریدتے وقت انرجی ریٹنگ ضرور دیکھیں۔ انورٹر ماڈل شروع میں مہنگے ہوتے ہیں مگر بل میں فرق ڈالتے ہیں، خاص طور پر اس گھر میں جہاں اے سی روزانہ کئی گھنٹے چلتا ہو۔ اسی طرح آج کل کم بجلی والے ڈی سی پنکھے بھی دستیاب ہیں۔ خریداری سے پہلے کل خرچہ سوچیں: قیمت اور بجلی کی سالانہ بچت، دونوں کو ملا کر دیکھیں۔ اور اگر آپ کے پاس چھت ہے اور بجٹ اجازت دیتا ہے تو سولر کے بارے میں معلومات لیں، مگر کسی قابلِ اعتماد کمپنی سے مکمل حساب اور تنصیب کا معیار پوچھ کر ہی فیصلہ کریں۔
خراب یا پرانی موٹریں زیادہ بجلی کھاتی ہیں۔ ان کی مرمت یا تبدیلی سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ پانی کی موٹر کو ضرورت سے زیادہ دیر نہ چلائیں اور ٹینکی بھرنے کا وقت مقرر کر لیں تاکہ پانی اوور فلو ہو کر بجلی اور پانی دونوں ضائع نہ کرے۔ گھر کی وائرنگ میں ڈھیلے تار یا خراب سوئچ بھی بجلی ضائع کر سکتے ہیں، اس لیے سال میں ایک بار کسی مستند الیکٹریشن سے جانچ کروانا بہتر ہے۔ کنڈے یا میٹر میں چھیڑ چھاڑ غیر قانونی اور خطرناک ہے، اس سے ہرگز بچیں۔
سلیب کی حد پار ہوتے ہی فی یونٹ ریٹ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے مہینے کے دوران وقفے وقفے سے میٹر پڑھتے رہیں اور دیکھیں کہ آپ کس سلیب کی طرف جا رہے ہیں۔ اگر کسی ماہ خرچ حد کے قریب پہنچ رہا ہو تو آخری دنوں میں اے سی اور گیزر کا استعمال کم کر دیں۔ اپنے یونٹس کا اندازہ لگانے کے لیے بجلی بل کیلکولیٹر استعمال کریں۔ بل آنے پر میٹر ریڈنگ کی تاریخ اور یونٹوں کی تعداد بھی ملا کر دیکھیں، اور اگر بل غیر معمولی محسوس ہو تو اپنے میٹر کی تصویر سے موازنہ کر کے متعلقہ دفتر میں شکایت درج کروائیں۔
سلیب اور محفوظ و غیر محفوظ صارف کا فرق تفصیل سے سمجھنے کے لیے بجلی کے یونٹس کا سلیب سسٹم پڑھیں۔ گھر کے دیگر اخراجات کم کرنے کے لیے گیس کا بل کم کرنے کے طریقے اور گرمیوں میں گھر ٹھنڈا رکھنے کے طریقے بھی دیکھیں۔
یاد رہے کہ ریٹ اور چارجز بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اصل بل کی تفصیل اپنی بجلی کمپنی سے دیکھیں۔