پاکستان کے بیشتر شہروں میں گرمیاں سخت ہوتی ہیں اور اوپر سے لوڈ شیڈنگ اور مہنگی بجلی کی پریشانی الگ ہے۔ ہر گھر میں ایئر کنڈیشنر لگانا اور چلانا ممکن نہیں ہوتا۔ خوش قسمتی سے چند سادہ طریقوں سے گھر کے اندر کا درجہ حرارت کافی حد تک کم رکھا جا سکتا ہے۔ ان مشوروں پر عمل کرنے سے آپ کا آرام بھی بہتر ہوگا اور بجلی کا بل بھی قابو میں رہے گا۔
دن کے وقت سورج کی سیدھی دھوپ کمروں کو گرم کر دیتی ہے۔ صبح سے دوپہر تک خاص طور پر مغرب اور جنوب کی طرف والی کھڑکیوں پر موٹے پردے لگائیں۔ ہلکے رنگ کے پردے حرارت کو زیادہ منعکس کرتے ہیں۔ رات کو جب باہر کی ہوا ٹھنڈی ہو جائے تب کھڑکیاں کھول دیں۔
شام ڈھلنے کے بعد کھڑکیاں اور دروازے کھول کر ایسی ترتیب بنائیں کہ ہوا ایک طرف سے آئے اور دوسری طرف سے نکل جائے۔ اس سے دن بھر کی جمع شدہ گرم ہوا باہر نکل جاتی ہے۔ مچھروں سے بچنے کے لیے جالی لگوانا مفید رہتا ہے۔
پنکھا کمرے کی ہوا کو ٹھنڈا نہیں کرتا بلکہ جسم پر چلنے والی ہوا سے پسینہ خشک کر کے ٹھنڈک کا احساس دیتا ہے۔ اس لیے کمرے میں کوئی نہ ہو تو پنکھا بند کر دیں۔ ایک کھڑکی کے سامنے پنکھا اس طرح رکھیں کہ وہ گرم ہوا کو باہر نکالے، خاص طور پر جب باہر کی ہوا اندر سے ٹھنڈی ہو۔ پنکھے کے پروں کی باقاعدہ صفائی بھی ہوا کا بہاؤ بہتر کرتی ہے۔
گھر کی چھت گرمیوں میں سب سے زیادہ گرم ہوتی ہے۔ چھت پر سفید رنگ یا حرارت منعکس کرنے والا روغن کروانے سے کمرے کا درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو شام کو چھت پر پانی چھڑک دیں، لیکن پانی کے ضیاع کا بھی خیال رکھیں۔ نئی تعمیر میں چھت پر حرارتی رکاوٹ لگوانا طویل مدتی فائدہ دیتا ہے۔
چولہا، اوون، استری اور کپڑے سکھانے کی مشین جیسی چیزیں گھر کو گرم کرتی ہیں۔ ان کاموں کو صبح سویرے یا رات کے وقت کرنے کی کوشش کریں۔ کھانا پکاتے وقت باورچی خانے کا ایگزاسٹ فین چلائیں یا کھڑکی کھول دیں۔ استعمال میں نہ آنے والے بلب اور برقی آلات بند رکھیں کیونکہ وہ بھی حرارت پیدا کرتے ہیں۔
گھر کے باہر اور چھت پر درخت اور بیلیں لگانے سے قدرتی سایہ ملتا ہے، جو دیوار اور چھت کو گرم ہونے سے بچاتا ہے۔ صحن یا بالکونی میں گملے رکھنے سے بھی ماحول کچھ ٹھنڈا رہتا ہے۔ یہ طریقہ وقت لیتا ہے لیکن بہت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
گرمیوں میں ہلکے رنگ کے اور سوتی کپڑے پہنیں جن سے ہوا گزر سکے۔ بستر پر ہلکی چادریں استعمال کریں۔ پانی زیادہ پئیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو، اور دوپہر کے وقت غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے پرہیز کریں۔
اگر آپ ایئر کنڈیشنر استعمال کرتے ہیں تو اس کا درجہ حرارت بہت کم نہ رکھیں۔ کمرے کے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں تاکہ ٹھنڈی ہوا باہر نہ نکلے، اور فلٹر باقاعدگی سے صاف کریں۔ گندا فلٹر زیادہ بجلی کھاتا ہے اور ٹھنڈک بھی کم دیتا ہے۔
گرمی سے بچاؤ کے لیے سب سے مؤثر طریقہ ایک وقت میں کئی چھوٹے اقدامات کرنا ہے۔ شدید گرمی میں بزرگوں، بچوں اور بیماروں کا خاص خیال رکھیں، اور لو لگنے کی علامات، جیسے چکر، تیز بخار اور بے ہوشی، ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔