اپنے استعمال شدہ یونٹس اور فی یونٹ ریٹ لکھ کر بل کا اندازہ لگائیں۔
اپنے پچھلے بل سے یونٹس، فی یونٹ ریٹ اور فکسڈ چارجز دیکھ کر لکھیں۔ ریٹ سلیب کے حساب سے بدلتے ہیں، اس لیے نتیجہ اندازاً ہوتا ہے اور اصل بل سے تھوڑا مختلف ہو سکتا ہے۔
بجلی کے بل کی بنیاد استعمال شدہ یونٹس ہوتے ہیں۔ ایک یونٹ ایک کلو واٹ گھنٹہ کے برابر ہوتا ہے، یعنی ایک ہزار واٹ کا آلہ ایک گھنٹہ چلے تو ایک یونٹ خرچ ہوتا ہے۔ ٹول میں یونٹس کو فی یونٹ ریٹ سے ضرب دی جاتی ہے، اس میں فکسڈ چارجز جمع کیے جاتے ہیں اور آخر میں ٹیکس اور دوسرے چارجز کا فیصد لگا دیا جاتا ہے۔
فرضی مثال کے طور پر اگر 200 یونٹس استعمال ہوں، فی یونٹ ریٹ 30 روپے ہو، فکسڈ چارجز 200 روپے ہوں اور ٹیکس 15 فیصد ہو تو یونٹس کی قیمت 6,000 روپے ہوگی، فکسڈ چارجز ملا کر 6,200 اور ٹیکس کے بعد تقریباً 7,130 روپے۔ یہ اعداد صرف سمجھانے کے لیے ہیں، اصل ریٹ اپنے بل پر دیکھیں۔
اصل بل میں کئی چیزیں ہوتی ہیں جو ایک سادہ ٹول میں شامل نہیں کی جا سکتیں۔ بجلی کے ریٹ سلیب کے حساب سے بدلتے ہیں، یعنی جتنے زیادہ یونٹس استعمال ہوں گے فی یونٹ ریٹ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایندھن کی قیمت کی ایڈجسٹمنٹ، سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ، بجلی کی ڈیوٹی اور ٹی وی فیس جیسے مدات بھی بل کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ سلیب کا نظام سمجھنے کے لیے بجلی کا سلیب کیسے کام کرتا ہے پڑھیں۔
اگر آپ کا بل بہت زیادہ آ رہا ہے تو سب سے پہلے اے سی، فریج، واشنگ مشین اور استری کے استعمال پر نظر ڈالیں، کیونکہ یہی آلات سب سے زیادہ یونٹس کھاتے ہیں۔ ہمارے مضامین بجلی کا بل کم کرنے کے طریقے اور گرمیوں میں گھر ٹھنڈا رکھنے کے طریقے میں عملی مشورے موجود ہیں۔