ہمارے پاس دن کے چوبیس گھنٹے ہی ہوتے ہیں، لیکن کچھ لوگ اسی وقت میں بہت کچھ کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ سارا دن مصروف رہ کر بھی شام کو محسوس کرتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوا۔ فرق زیادہ محنت کا نہیں بلکہ منصوبہ بندی کا ہوتا ہے۔ یہ مضمون طلبہ، ملازمین اور گھریلو خواتین سب کے لیے ہے، اور اس میں سات ایسے اصول شامل ہیں جو زندگی میں آسانی سے اپنائے جا سکتے ہیں۔
سونے سے پہلے پانچ منٹ نکال کر اگلے دن کے اہم کام کاغذ یا موبائل کے نوٹس میں لکھ لیں۔ لکھی ہوئی فہرست سے ذہن کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے اور صبح اٹھ کر سوچنا نہیں پڑتا کہ کہاں سے شروع کریں۔ فہرست میں دس بارہ کام رکھنے کے بجائے تین سے پانچ اہم کام رکھیں۔
ہر کام فوری ہوتا ہے نہ ہر کام اہم۔ مثلاً کسی کا فون آنا فوری ہو سکتا ہے، مگر امتحان کی تیاری یا صحت کا خیال اہم ہوتا ہے۔ پہلے وہ کام کریں جو اہم بھی ہو اور فوری بھی، اس کے بعد وہ جو اہم ہو مگر فوری نہ ہو۔ اگر ہم صرف فوری کاموں میں لگے رہیں تو اہم کام مسلسل ٹلتے رہتے ہیں۔
صبح کا وقت عموماً زیادہ توجہ والا ہوتا ہے۔ سب سے مشکل یا سب سے ناپسندیدہ کام کو دن کے آغاز میں نمٹا لیں۔ ایک بار وہ ہو جائے تو باقی دن ہلکا محسوس ہوتا ہے۔ ہر شخص کا بہترین وقت مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے اپنا وقت پہچانیں۔
ایک ساتھ کئی کام کرنے کی کوشش میں ہم ہر کام میں سست اور غلطیوں کے شکار ہو جاتے ہیں۔ پڑھتے ہوئے موبائل پر پیغامات دیکھنا اس کی عام مثال ہے۔ کوئی ایک کام شروع کریں، بیس سے تیس منٹ صرف اسی پر توجہ دیں، اور پھر مختصر وقفہ لیں۔
نوٹیفکیشن بار بار توجہ توڑتے ہیں۔ کام کے وقت غیر ضروری ایپس کے نوٹیفکیشن بند کر دیں یا موبائل کو خاموش پر رکھ کر دور رکھیں۔ سوشل میڈیا کے لیے دن میں دو یا تین وقت مقرر کر لیں۔ اپنی سیٹنگز میں اسکرین ٹائم دیکھیں تو حیرت ہوگی کہ کتنا وقت بغیر سوچے گزر جاتا ہے۔
ہر درخواست پر ہاں کہنے سے آپ کے اپنے ضروری کام رہ جاتے ہیں۔ نرمی اور احترام کے ساتھ انکار کرنا بھی ایک فن ہے۔ اگر کوئی کام آپ کی ترجیحات سے ٹکراتا ہو تو کہیں کہ ابھی میرے پاس وقت نہیں، فلاں دن دیکھ لیں گے۔
نیند پوری نہ ہو تو دن بھر کی کارکردگی کم ہو جاتی ہے۔ آرام کو وقت کا ضیاع نہ سمجھیں، یہ تازہ دم ہونے کے لیے ضروری ہے۔ روزانہ تھوڑی چہل قدمی، اہل خانہ کے ساتھ وقت اور عبادت کے لیے وقت نکالنا زندگی میں توازن پیدا کرتا ہے۔
سب اصول ایک ساتھ اپنانا ضروری نہیں۔ پہلے ہفتے صرف رات کی فہرست بنانے کی عادت ڈالیں، پھر دوسرا اصول شامل کریں۔ تھوڑی مگر مستقل کوشش سے وقت آپ کے قابو میں آ جاتا ہے۔