مہینے کے آخر میں یہ سوچنا کہ "تنخواہ گئی کہاں؟" تقریباً ہر گھرانے کا تجربہ ہے۔ اس کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ خرچ کا کوئی واضح منصوبہ نہیں ہوتا۔ بجٹ کا مطلب خود کو پابند کرنا نہیں بلکہ اپنی آمدنی کو سوچ سمجھ کر تقسیم کرنا ہے۔ اس مضمون میں ہم 50/30/20 کا مشہور اصول سیکھیں گے، جسے آپ اپنے حالات کے مطابق بدل بھی سکتے ہیں۔ یہ عمومی رہنمائی ہے، ہم مالیاتی مشیر نہیں ہیں۔
اس اصول کے تحت آپ اپنی ماہانہ آمدنی کو تین حصوں میں بانٹتے ہیں۔ 50 فیصد ضروریات کے لیے، 30 فیصد خواہشات کے لیے، اور 20 فیصد بچت اور قرض کی ادائیگی کے لیے۔ یہ کوئی سخت قانون نہیں بلکہ ایک نقطہ آغاز ہے، جس سے آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کا خرچ کس سمت میں جا رہا ہے۔
ضروریات وہ اخراجات ہیں جن کے بغیر گزارا مشکل ہے: گھر کا کرایہ یا قسط، بجلی گیس اور پانی کے بل، راشن، بچوں کی فیس، ٹرانسپورٹ، دوائیں اور قرض کی کم از کم قسط۔
خواہشات وہ اخراجات ہیں جو زندگی کو آرام دہ بناتے ہیں مگر ناگزیر نہیں: باہر کھانا، نئے کپڑے (ضرورت سے زیادہ)، تفریح، مہنگے موبائل، سبسکرپشنز اور سیر و سیاحت۔
بچت میں ہنگامی فنڈ، کمیٹی، مستقبل کے بڑے اخراجات کے لیے رقم اور اضافی قرض کی ادائیگی شامل ہے۔
فرض کریں ایک گھرانے کی ماہانہ آمدنی 60,000 روپے ہے۔ 50/30/20 کے حساب سے ضروریات کے لیے 30,000 روپے، خواہشات کے لیے 18,000 روپے اور بچت کے لیے 12,000 روپے رکھے جائیں گے۔ ہر حصہ نکالنے کے لیے آمدنی کو فیصد سے ضرب دیں: 60,000 × 50 ÷ 100 = 30,000۔ آپ یہ حساب ہمارے فیصد کیلکولیٹر سے بھی کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں مہنگائی اور کرائے کے سبب بہت سے گھرانوں کی ضروریات ہی 60 یا 70 فیصد تک پہنچ جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ اصول کو 70/20/10 یا 60/25/15 کر سکتے ہیں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ بچت کا حصہ صفر نہ ہو، چاہے وہ آمدنی کا 5 فیصد ہی کیوں نہ ہو۔ چھوٹی بچت بھی عادت بنانے کے لیے کافی ہے۔ اگر بجلی کے بل جیسے اخراجات آپ کو کھٹکتے ہیں تو ان پر بھی ہمارا بجلی کا بل کم کرنے کے طریقے والا مضمون مددگار ہو سکتا ہے۔
پہلا قدم: اپنی مستقل ماہانہ آمدنی لکھیں۔ اگر آمدنی غیر یقینی ہو تو پچھلے چند ماہ کی سب سے کم آمدنی کو بنیاد بنائیں۔
دوسرا قدم: پچھلے دو تین مہینوں کے اخراجات کاپی یا موبائل نوٹس میں لکھیں۔ زیادہ تر لوگ اس مشق میں حیران رہ جاتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے خرچے کتنے بن جاتے ہیں۔
تیسرا قدم: ہر خرچ کو ضرورت، خواہش یا بچت میں تقسیم کریں اور دیکھیں کہ آپ کی موجودہ صورتحال 50/30/20 سے کتنی دور ہے۔
چوتھا قدم: اگلے مہینے کے لیے ہدف مقرر کریں، اور سب سے پہلے بچت کی رقم الگ کر دیں۔ بچت کو مہینے کے آخر پر بچی ہوئی رقم پر نہ چھوڑیں، کیونکہ اکثر کچھ نہیں بچتا۔
پانچواں قدم: مہینے کے آخر میں جائزہ لیں اور اگلے مہینے میں ضرورت کے مطابق تبدیلی کریں۔
بچت کا پہلا ہدف عموماً ہنگامی فنڈ ہوتا ہے، جو بیماری، نوکری جانے یا اچانک مرمت جیسے حالات میں کام آئے۔ عام مشورہ یہ دیا جاتا ہے کہ کم از کم تین سے چھ مہینے کے ضروری اخراجات کے برابر رقم الگ رکھی جائے۔ اوپر کی مثال میں ضروری اخراجات 30,000 روپے ماہانہ ہیں، تو تین مہینے کا فنڈ 90,000 روپے بنتا ہے۔ یہ رقم ایک دن میں جمع نہیں ہوتی، لیکن ہر مہینے کی چھوٹی بچت سے آہستہ آہستہ بن جاتی ہے۔
سب سے بڑی غلطی چھوٹے روزمرہ خرچوں کو نظر انداز کرنا ہے، جیسے روز کی چائے، سنیک یا آن لائن آرڈر۔ دوسری غلطی قسطوں پر ضرورت سے زیادہ خریداری ہے، جس سے آئندہ آمدنی پہلے ہی بندھ جاتی ہے۔ تیسری غلطی بجٹ کو سخت بنا لینا ہے، جس سے بندہ دو ہفتے بعد ہی ہمت ہار دیتا ہے۔ ایک معقول رقم "بے فکر خرچ" کے لیے رکھنا بجٹ کو زیادہ پائیدار بناتا ہے۔
دستبرداری: یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے ہے اور ہر شخص کے مالی حالات مختلف ہوتے ہیں۔ بڑے مالی فیصلوں، سرمایہ کاری یا قرض کے لیے کسی مستند مالیاتی مشیر سے مشورہ کریں۔