پاکستان کے کئی شہروں میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے، اور جہاں پانی کے بل یا ٹینکر کا خرچ ہوتا ہے وہاں ضائع ہونے والا ہر گھڑا جیب پر بھی بوجھ بنتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ گھر میں پانی بچانے کے لیے کسی مہنگی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف چند عادتیں بدلنا کافی ہے۔ اس مضمون میں آٹھ آسان طریقے بتائے گئے ہیں جو ہر گھرانہ اپنا سکتا ہے۔
ایک ٹونٹی جو ہر لمحے ایک قطرہ ٹپکاتی ہے، دن بھر میں کئی لیٹر پانی ضائع کر دیتی ہے اور مہینے بھر میں یہ مقدار بہت بڑھ جاتی ہے۔ ٹونٹی کا واشر عام طور پر چند روپے کا ہوتا ہے اور پلمبر اسے کم وقت میں بدل دیتا ہے۔ اسی طرح فلش ٹینک کے اندر لیکیج بھی دیکھتے رہیں، کیونکہ اس کی آواز اکثر سنائی نہیں دیتی مگر پانی مسلسل بہتا رہتا ہے۔ ایک آسان جانچ یہ ہے کہ ٹینک میں چند قطرے رنگ ڈال کر آدھا گھنٹہ انتظار کریں؛ اگر رنگ کموڈ میں آ جائے تو لیکیج موجود ہے۔
برش کرتے یا شیو کرتے وقت ٹونٹی کھلی چھوڑ دینا سب سے عام عادت ہے۔ پہلے منہ گیلا کر کے ٹونٹی بند کر دیں، برش کریں اور کلی کے لیے صرف ایک گلاس پانی استعمال کریں۔ یہ چھوٹی سی تبدیلی گھر کے ہر فرد کے حساب سے روزانہ خاصا پانی بچا دیتی ہے۔
کھلے شاور کے نیچے دیر تک کھڑے رہنے سے بہت پانی خرچ ہوتا ہے۔ بالٹی اور مگ سے نہانا عام طور پر کم پانی لیتا ہے۔ اگر شاور لگا ہو تو صابن لگاتے وقت اسے بند کر دیں اور کم بہاؤ والا شاور ہیڈ لگوائیں۔ بچوں کو بھی شروع سے نہانے کا وقت مختصر رکھنے کی عادت ڈالیں۔
برتن کھلی ٹونٹی کے نیچے دھونے کے بجائے پہلے انہیں صابن والے پانی میں بھگو دیں اور پھر تھوڑے پانی سے کھنگالیں۔ ایک بڑے طشت میں کھنگالنے سے بھی کافی پانی بچتا ہے۔ چکنائی والے برتنوں کو پہلے ٹشو یا کاغذ سے صاف کر لیں تاکہ زیادہ پانی درکار نہ ہو۔
آدھی مشین چلانے پر بھی اتنا ہی پانی اور بجلی لگتی ہے جتنی پوری مشین پر، اس لیے کپڑے جمع کر کے پوری لوڈ کے ساتھ دھوئیں۔ اگر مشین میں مختلف پروگرام ہوں تو کم میلے کپڑوں کے لیے چھوٹا پروگرام منتخب کریں۔
پائپ سے صحن یا گاڑی دھونا بہت زیادہ پانی مانگتا ہے۔ اس کی جگہ بالٹی اور کپڑے سے گاڑی صاف کریں، اور صحن کو پہلے جھاڑو سے صاف کر کے پھر تھوڑا پانی ڈالیں۔ جھاڑو سے گرد ہٹ جائے تو پانی کی ضرورت بہت کم رہ جاتی ہے۔
پودوں کو صبح سویرے یا شام کو پانی دیں تاکہ دھوپ سے پانی جلدی بھاپ بن کر اڑ نہ جائے۔ سبزی اور چاول دھونے کا پانی بھی پھینکنے کے بجائے گملوں میں ڈالا جا سکتا ہے۔ اسی طرح فریج کی برف پگھلنے یا پینے کے بعد بچ جانے والے گلاسوں کا پانی بھی پودوں کے کام آ سکتا ہے۔
چھت کی ٹینکی بھر جانے پر اوور فلو ہو جائے تو ہزاروں لیٹر پانی ضائع ہو سکتا ہے۔ موٹر چلا کر بھول جانے کی عادت سے بچیں، ٹائمر یا فلوٹ والو لگوائیں، اور ٹینکی کے ڈھکن اور پائپوں کی لیکیج وقتاً فوقتاً دیکھتے رہیں۔
پانی اللہ کی بڑی نعمت ہے اور اس کا بے جا استعمال ہماری آنے والی نسلوں کے لیے بھی مسئلہ بن سکتا ہے۔ اوپر دیے گئے طریقوں میں سے دو تین سے آغاز کریں اور آہستہ آہستہ باقی کو بھی عادت بنا لیں۔ گھر کے سب افراد، خاص طور پر بچوں کو شامل کریں تاکہ یہ عادتیں مستقل بن جائیں۔ ہر گھر کی صورتِ حال مختلف ہوتی ہے، اس لیے اپنی ضرورت کے مطابق مناسب طریقے اپنائیں۔