موبائل والٹ اور آن لائن بینکنگ نے پیسوں کا لین دین بہت آسان کر دیا ہے، لیکن اسی کے ساتھ فراڈ کے طریقے بھی بڑھ گئے ہیں۔ ہر روز کوئی نہ کوئی شخص فون کال یا پیغام کے ذریعے دھوکے کا شکار ہو جاتا ہے۔ فراڈ کرنے والے عموماً تکنیکی مہارت سے زیادہ لوگوں کے اعتماد اور گھبراہٹ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس مضمون میں عام طریقوں کی نشاندہی اور بچاؤ کے سادہ اصول بیان کیے گئے ہیں۔
فراڈ کرنے والا خود کو بینک، موبائل کمپنی یا کسی ادارے کا نمائندہ بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کا اکاؤنٹ بند ہو جائے گا یا آپ کا انعام نکلا ہے۔ اس کے بعد وہ آپ سے پن کوڈ، او ٹی پی یا شناختی معلومات مانگتا ہے۔ یاد رکھیں کہ کوئی بھی حقیقی ادارہ آپ سے فون پر آپ کا پن یا او ٹی پی نہیں مانگتا۔ ایسی کال آئے تو فوراً بند کر دیں۔
ایک عام طریقہ یہ ہے کہ آپ کے اکاؤنٹ میں رقم آنے کا پیغام آتا ہے اور پھر کوئی فون کر کے کہتا ہے کہ غلطی سے میرے پیسے آپ کے پاس آ گئے ہیں، واپس بھیج دیں۔ بعض اوقات پیغام جعلی ہوتا ہے اور اصل میں کوئی رقم آئی ہی نہیں ہوتی۔ پیسے بھیجنے سے پہلے اپنی ایپ یا بینک اسٹیٹمنٹ میں خود بیلنس چیک کریں۔
آپ کو پیغام آتا ہے کہ آپ نے لاکھوں روپے کا انعام جیتا ہے، بس انعام حاصل کرنے کے لیے پہلے کچھ فیس یا ٹیکس جمع کروانا ہوگا۔ جس مقابلے میں آپ نے حصہ ہی نہیں لیا، اس میں انعام کیسے نکل سکتا ہے؟ کوئی بھی جائز ادارہ انعام دینے کے لیے پہلے آپ سے پیسے نہیں مانگتا۔
بعض لوگ ایپس یا ویب سائٹ کے لنک بھیجتے ہیں جو اصل جیسے دکھتے ہیں مگر آپ کی معلومات چرانے کے لیے بنائے گئے ہوتے ہیں۔ ایپ ہمیشہ سرکاری اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کریں اور ڈویلپر کا نام دیکھ لیں۔ پیغام میں آئے ہوئے کسی لنک پر کلک کر کے اپنی بینکنگ معلومات نہ ڈالیں۔
اپنا پن، پاس ورڈ اور او ٹی پی کسی کو نہ بتائیں، چاہے گھر کا فرد ہی کیوں نہ ہو۔ اپنے موبائل والٹ میں ایسا پن رکھیں جو اندازے سے معلوم نہ ہو۔ کسی بھی کال پر جلدی نہ کریں۔ فراڈ کرنے والا ہمیشہ کہتا ہے کہ فوراً کرو ورنہ نقصان ہو جائے گا۔ رک کر سوچیں اور خود متعلقہ ادارے کی ہیلپ لائن پر رابطہ کریں، جس کا نمبر اس کی سرکاری ویب سائٹ سے لیں، نہ کہ کال کرنے والے کے بتائے ہوئے نمبر سے۔
سب سے پہلے فوراً متعلقہ بینک یا سروس کی ہیلپ لائن پر اطلاع دیں اور اپنا اکاؤنٹ یا والٹ بلاک کروائیں۔ اپنا پن اور پاس ورڈ بدل دیں۔ تمام پیغامات اور کال کا ریکارڈ محفوظ رکھیں۔ اس کے بعد ایف آئی اے کے سائبر کرائم شعبے یا متعلقہ ادارے میں شکایت درج کرانے کے طریقے کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ جتنی جلدی اطلاع دی جائے، اتنا ہی بہتر ہوتا ہے، البتہ رقم کی واپسی کی ضمانت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔
بزرگ اور کم پڑھے لکھے افراد ایسے فراڈ کا زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔ اپنے والدین اور بڑوں کو یہ باتیں سمجھائیں اور انہیں بتائیں کہ کسی بھی کال پر پیسے بھیجنے سے پہلے آپ سے پوچھ لیں۔
ہوشیار رہنا ہی سب سے بڑا بچاؤ ہے۔ جو بات بہت اچھی یا بہت خوفناک لگے، اس پر فوراً یقین کرنے کے بجائے تصدیق کر لیں۔